Islamic finance

Business Zakat Calculator

کاروبار پر زکوٰۃ

Estimate Zakat on business cash, stock, receivables and investments minus short-term liabilities in Pakistan.

Personal Zakat calculator · Gold Zakat calculator

N

Approximate nisab (gold basis)

Rs 35.30 LakhBusiness wealth must meet nisab for one lunar year
Advertisement
+

Business assets

Zakatable business wealth at year-end

-

Deductions

Short-term liabilities due within the year

زکوٰۃ کے متعلق قرآنی آیات اور احادیث

زکوٰۃ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے۔ یہ مال کی پاکیزگی، دل کی سخاوت اور معاشرے میں غریبوں کی مدد کا ذریعہ ہے۔ قرآنِ مجید میں بار بار نماز کے ساتھ زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے بھی زکوٰۃ نہ دینے والوں کے لیے سخت وعید بیان فرمائی ہے۔

قرآنِ مجید کی آیات

سورۃ البقرہ — آیت 43

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔

سورۃ البقرہ — آیت 110

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ۚ وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللَّهِ

نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو، اور جو بھلائی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پاؤ گے۔

سورۃ التوبہ — آیت 60

إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ

زکوٰۃ صرف فقیروں، مسکینوں، زکوٰۃ جمع کرنے والوں، دل جوڑنے والوں، غلام آزاد کرانے، قرض داروں، اللہ کی راہ میں اور مسافروں کے لیے ہے۔

سورۃ التوبہ — آیت 34-35

وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ

اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری دے دو۔

سورۃ البینہ — آیت 5

وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ

اور انہیں یہی حکم دیا گیا تھا کہ خالص اللہ کی عبادت کریں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔

زکوٰۃ سے متعلق احادیث

حدیث 1

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اللہ کے سوا کسی معبود کے نہ ہونے اور محمد ﷺ کے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دینا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔”

(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

حدیث 2

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جس شخص کو اللہ نے مال دیا اور اس نے اس کی زکوٰۃ ادا نہ کی تو قیامت کے دن اس کا مال ایک زہریلے گنجے سانپ کی شکل اختیار کرے گا۔”

(صحیح بخاری)

حدیث 3

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “صدقہ مال کو کم نہیں کرتا۔”

(صحیح مسلم)

حدیث 4

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اپنے مالوں کو زکوٰۃ کے ذریعے محفوظ کرو۔”

(طبرانی)

حدیث 5

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جو قوم زکوٰۃ روک لیتی ہے، اس سے آسمان کی بارش روک لی جاتی ہے۔”

(سنن ابن ماجہ)

زکوٰۃ کے اہم مسائل

زکوٰۃ ہر صاحبِ نصاب مسلمان پر فرض ہے۔
عام طور پر سال گزرنے پر کل مال کا 2.5٪ زکوٰۃ ادا کی جاتی ہے۔
سونا، چاندی، نقد رقم، کاروباری مال اور بعض سرمایہ کاریوں پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔
زکوٰۃ صرف مستحق افراد کو دی جا سکتی ہے۔
والدین، اولاد اور بیوی کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی۔
زکوٰۃ مال کو پاک اور بابرکت بناتی ہے۔

زکوٰۃ کی روح

زکوٰۃ صرف مالی عبادت نہیں بلکہ غریبوں، یتیموں اور ضرورت مندوں کے ساتھ ہمدردی اور معاشرتی انصاف کا عظیم نظام ہے۔ یہ دل میں سخاوت اور معاشرے میں محبت پیدا کرتی ہے۔

اختتامیہ

اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح طریقے سے زکوٰۃ ادا کرنے اور اپنے مال کو پاک و بابرکت بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین۔

Method & Sources

Method

Net zakatable business assets minus immediate liabilities, then 2.5% if above nisab.

Inventory

Use a consistent valuation method (cost or market) and apply it each year.

Scholarly review

Partnerships, losses, and industry-specific rules should be confirmed with a qualified scholar.

Frequently Asked Questions

Is Zakat due on business stock?

Yes — saleable inventory is generally zakatable when your total business wealth meets nisab for one lunar year.

Can I deduct supplier payments?

Immediate trade payables and short-term debts due within the year are commonly deducted before calculating Zakat.

What about shop property?

Property and equipment used in the business are usually not included in this simple estimate. Ask a scholar for your case.